حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی اور قم کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے کہا ہے کہ ائمہ جمعہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اندرون و بیرونِ ملک پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا موجودہ دور کی زبان میں مدلل جواب دیں اور اسلامی انقلاب کے افکار و نظریات کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچائیں۔
قم میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب نماز جمعہ کو اسلامی نظام کی نرم طاقت کا ایک اہم ستون قرار دیتے تھے۔ ان کے مطابق امام جمعہ صرف نماز پڑھانے والا نہیں بلکہ انقلاب اسلامی کا ترجمان ہوتا ہے، جس کا فرض ہے کہ دینی تعلیمات، انقلابی اقدار اور معاشرے کو درپیش فکری مسائل کی وضاحت آسان اور قابلِ فہم انداز میں کرے۔
آیت اللہ سعیدی نے اربعین حسینی کے عظیم اجتماع کو عالم اسلام کے اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں زائرین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ امام حسینؑ کی محبت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع دینی، ثقافتی اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ظلم و استکبار کے خلاف مسلمانوں کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے حجاب اور عفت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں اصلاح کے لیے دو طبقوں کی ذمہ داریاں اہم ہیں۔ پہلی ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اچھے اخلاق، نرم لہجے اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ نیکی کی تلقین کریں۔ انہوں نے کہا کہ سخت زبان اور توہین آمیز رویہ اصلاح کے بجائے اختلاف اور جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔ ان کے بقول، امر بالمعروف کا مقصد لوگوں کی تذلیل نہیں بلکہ ان کی بھلائی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا فریضہ متعلقہ سرکاری اداروں، پولیس اور عدلیہ کا ہے کہ وہ قانون شکنی اور سماجی بے راہ روی کے خلاف قانونی کارروائی کریں تاکہ معاشرے کا امن و سکون برقرار رہے۔
آیت اللہ سعیدی نے اسراف سے بچنے کی بھی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہر معاملے میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وضو کے لیے بہت زیادہ پانی استعمال کرنا بھی اسراف ہے، جس سے ہر مسلمان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
خطبے کے پہلے حصے میں انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات ظاہری ناکامی درحقیقت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مشکلات، دشمن کی سازشوں اور وقتی حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین اور صبر کے ساتھ اپنے راستے پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہل ایمان کو دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے قرآن کی تعلیمات پر اعتماد رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد اور حق کی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے، اور یہی یقین مسلمانوں کی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔









آپ کا تبصرہ